47

افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی آج 66 ویں برسی

لاہور: (سماء نیوز) سعادت حسن منٹو کے بغیر اردو افسانہ نگاری کا تذکرہ نامکمل ہے، اردو ادب کے درخشاں ستارے کی آج چھیاسٹھ ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سعادت حسن منٹو نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ ہمیشہ کےلیے اردو ادب کے لیے ایک انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

سعادت حسن منٹو کا نام اردو ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں،اردو زبان میں مختصر کہانیوں اور جدید افسانے کے منفرد اور بے باک مصنف سعادت حسن منٹو11 مئی 1912ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔

منٹو اپنے عہد کے ادیبوں میں انتہائی نمایاں شخصیت کے مالک تھے تاہم وہ محض 43 برس کی عمرمیں اس دارِفانی کو الوداع کہہ گئے۔ معاشرے کو اس کی اپنی ہی تصویر دکھانے والے عکّاس کو اس کی بے ساختگی پرجو تازیانے کھانے پڑے وہ ایک ان مٹ داستان ہے۔

منٹو کے مضامین کا دائرہ معاشرتی تقسیمِ زرکی لاقانونیت اور تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی رہا۔ ان کے تحریر کردہ افسانوں میں سیاہ حاشیے، لاؤڈ سپیکر، گنجے فرشتے اور نمرود کی خدائی بے پناہ مقبول ہوئے۔

اپنی عمرکے آخری سات سال منٹو دی مال لاہور پر واقع بلڈنگ دیال سنگھ مینشن میں مقیم رہے، 18 جنوری 1955 کی ایک سرد صبح ہند و پاک کے تمام اہلِ ادب نے یہ خبر سنی کہ اردو ادب کو تاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی پرحکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی یاد میں پانچ روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں