23

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے یا نہیں؟ صدارتی ریفرنس کی سپریم کورٹ میں سماعت

اسلام آباد: (سماء نیوز) صدارتی ریفرنس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 226 کا اطلاق ہو تو مخصوص نشستوں کے انتخابات ہو ہی نہیں سکتے۔

تفصیل کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ ججز نے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم آئین کے محافظ ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت عدالت سے کیوں رائے مانگ رہی ہے، پارلیمنٹ سے رجوع کرے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیئے کہ چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کے انتخابات الیکشن کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں واضح نہیں ہیں۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی الیکشن کمیشن نہیں کراتا۔ ارکان سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔ جرمنی والا طریقہ کار پاکستان میں مخصوص نشستوں پر ہوتا ہے۔ شہری جس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے،لیکن ایم پی اے ایسا نہیں کر سکتے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ منتحب نمائندہ عوام اور پارٹی سربراہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ ایم پی اے کو خفیہ رائے شماری میں آزادانہ ووٹ کا حق دینا اہم سوال ہے۔ انتخابات میں لوگ امیدوار نہیں، پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی وزیراعظم اور بجٹ منظوری پر ہی ہے۔ جرمنی میں سیاسی جماعتیں طے کرتی ہیں کہ کون کون رکن اسمبلی بنے گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایم پی اے جسے مرضی ووٹ دے تو پارٹی کیسے چلے گی۔ پارٹی کا نمائندہ ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ اخلاقی بات کر رہے ہیں، عدالت میں معاملہ سیاسی ہے۔ اخلاقی اور سیاسی معاملے پر عدالت اپنی رائے کیوں دے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس میں ایک سوال ہارس ٹریڈنگ، دوسرا الیکشن کی شفافیت کا ہے۔ عدالت میں سوال آرٹیکل 226 کے سینیٹ الیکشن پر اطلاق کا ہے۔ عدالت تشریح کرے ، عدالت جو بھی رائے دیگی، اس پر فیصلہ پارلیمان نے کرنا ہے۔ 2006ء کے میثاق جمہوریت میں اوپن بیلٹ کا وعدہ کیا گیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 226 کے مطابق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے علاوہ تمام الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہونگے، کوئی رکن صوبائی اسمبلی پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو سامنے آ کر دے۔ آئین کے آرٹیکل 53 اور 60 میں ذکر نہیں کہ انتخابات خفیہ ہونگے یا اوپن بیلٹ سے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 226 کا اطلاق ہو تو مخصوص نشستوں کے انتخابات ہو ہی نہیں سکتے، عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں