20

صوفی گائیکی میں بین الاقوامی شہرت یافتہ عابدہ پروین جن کا کوئی ثانی نہیں

لاہور: (سماء نیوز) خاتون ہونے کے ناطے صوفی میوزک کے میدان میں عابدہ پروین جیسا کوئی نہیں، برصغیرپاک و ہند کی موسیقی کی تاریخ کھنگا لی جائے تو بھی صوفیانہ مزاج کی حامل اس گلوکارہ جیسا دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

بین الاقوامی سطح پر صوفیانہ کلام گا کر شہرت پانے والے فنکاروں پر نظر ڈالی جائے تو ملک میں چند ہستیاں ایسی ہیں جن کی گائیکی نے سر اور ساز پر ایسا رنگ جمایا کہ دنیا بھر کے لوگ ان کو ان کی سریلی گائیکی سے پہچان جاتے ہیں۔

صوفیانہ شاعری، کافیاں،غزل اور گیت میں جس طرح کا منفرد انداز عابدہ پروین کے ہاں ملتا ہے،وہ کہیں اور نظر نہیں آتا۔ سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اس گلوکارہ نے اپنے منفرد انداز کے ذریعے دنیا بھر میں بے مثال شہرت و مقبولیت حاصل کی ہے اور صوفیانہ کلام سے ان ممالک کو بھی روشناس کرایا جو اس کی روشنی سے محروم تھے۔

عابدہ پروین کی گائیکی میں عشقِ حقیقی کے رنگ کِھلتے دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے صوفیاء کی تعلیم کو اپنے میوزک کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلاکر گویا صوفی گھرانے سے تعلق کا حق ادا کیا یہ دعویٰ کسی طور بھی غلط نہ ہوگا کہ اس وقت صوفیانہ کلام گانے میں عابدہ کے جوڑ کا کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا گو کہ پاپ سنگرز سے لے کر فلمی موسیقی میں بھی اب صوفیانہ گیت خوب نظر آتے ہیں لیکن عابدہ پروین کا انداز سب سے ہٹ کر ہے اور ان کا رنگ بالکل الگ و جداگانہ ہے۔

لائیو کنسرٹس میں ان کے چاہنے والوں کے جذبات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کی گائیکی ان کو دھمال پر مجبور کر دیتی ہے۔ گذشتہ دنوںاس مایہ ناز صوفی گلوکارہ سے میوزک اور دیگر ذاتی معاملات پر سیرحاصل گفتگو ہوئی جو یقینا پڑھنے والوں کے لیے نہ صرف دلچسپی بلکہ معلومات کا باعث بھی ہوگی۔

دنیا : آپ کے نزدیک صوفی ازم کی تعریف کیا ہے؟

جواب: صوفی ازم کو انسانیت کے لیے بہترین تحفہ قرار دیتی ہوں، صوفی شاعری میں وہ بات ہے کہ جو بندے کو خدا سے ملاتی ہے۔اس شاعری کے ذریعے انسان اپنے رب کے نزدیک ہوتا ہے اور اس کی خدائی کو پہچاننے کے قابل ہوتا ہے، صوفیائے کرام نے اپنی شاعری میں انسان اور خدا کے اس تعلق کو مضبوط کیا ہے اور خدا کی وحدانیت نمایاں کرتے ہوئے انسان کو اس کی پہچان کروائی ہے، اس شاعری سے خدا اور بندے کے درمیان خاص تعلق جڑتا ہے اور یہی صوفی ازم ہے۔یہی وجہ ہے کہ صاحبِ علم و علم کا طالب میری گائیکی کوسراہتا ہے، نئی نسل جس طرح میرے فن کو سراہتی ہے اس کا تصور عام انسان نہیں کرسکتا۔

دنیا: گانے کا خیال کب آیا ؟بطور خاتون صوفی گلوکارہ ہونے کے باعث کوئی مشکل پیش آئی؟

جواب : عام سننے والا سوچ نہیں سکتا کہ میں کب سے گارہی ہوں۔ بہت چھوٹی عمر یعنی صرف3 برس کی تھی جب سے گا رہی ہوں اور صوفی میوزک میری پہلی محبت ہے، صوفی گائیکہ بننا کسی طرح بھی میرے لیے دشوارکن نہیں رہا کیونکہ میرے باباسائیں استاد غلام حیدر ممتاز صوفی گائیک تھے لہٰذا ان سے یہ چیز وراثت میں ملی اور بچپن ہی سے واضح ہوگیا کہ مجھے آگے جاکر کیا بننا ہے سو گھر کی طرف سے بھرپور سپورٹ ملی اور میں نے باباسائیں سے سیکھنا شروع کردیا لہٰذا صوفی گائیکہ کی حیثیت سے تو مجھے ایسے چیلنجز یا مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن سے آگے بڑھنے میں دشواری ہوئی ہو، لاڑکانہ کے صوفی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں اور ہمارے ہاں گائیکی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے جہاں صوفی گائیکی کو سب سے زیادہ سراہا جاتاہے۔

دنیا: گھر کے صوفیانہ ماحول کے بارے میں کچھ بتائیے؟

جواب: خود کو بے حد خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میری پیدائش صوفی گھرانے میں ہوئی اور ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں ہر طرف صوفی میوزک تھا لہٰذا بہت چھوٹی عمر سے ہی اس موسیقی کی جانب رغبت ہوگئی اور میری دلچسپی دیکھتے ہوئے بابا سائیں نے میری سمت متعین کردی‘ اس میوزک سے جو رشتہ جڑا ہے وہ میرے گھر والے بخوبی جانتے ہیں اور اسی لیے ہمیشہ ان کی جانب سے سپورٹ ملی ہے۔

دنیا: آپ کے گانے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

جواب : اپنے خدا کے لیے گاتی ہوں اور یہی میرا مقصد ہے کہ صوفیانہ کلام کے ذریعے خدا کے اس پیغام کو دنیا میں پھیلاؤں جو صوفیوں کی میراث ہے سو اس حوالے سے دیکھا جائے تو اپنے ذمے صوفیوں والا اہم کام لیا ہے اور اب تک میوزک میں جو کچھ بھی کیا ہے،وہ سب اسی ذمے داری کو نبھانے کی ایک شکل ہے۔

دنیا: اس مقصد میں آپ کہاں تک کامیاب رہیں؟

جواب : اس میں کہاں تک کامیاب ہوپائی، یہ تو نہیں جانتی لیکن من کو اطمینان ہے کہ اپنی گائیکی کے ذریعے دنیا والوں کو روشن پیغام سے آشنا کررہی ہوں۔ گاتے ہوئے ذہن پر کسی بھی قسم کی سوچ نہیں ہوتی اور اس وقت صرف اور صرف خدا کا خیال غالب ہوتا ہے اور اپنے اردگرد سے بے نیاز ہوکر بس رب کی محبت میں گم ہوجاتی ہوں، اس وقت ماحول پر عجیب وجد کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف خدا ہی خداہے۔ اس خاص احساس کو لفظوں میں بیان کرناممکن نہیں کہ گاتے ہوئے مجھ پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے ،اس کا تعلق کہیں اور سے جڑا ہوتا ہے۔

دنیا: ملک اور بیرون ملک آپ نے بے شمار کنسرٹس میں پرفارم کیا ہے جن میں آپ کو بھرپور پذیرائی ملی ، اس پر کیا احساسات ہیں؟

جواب : خدا کے فضل سے دنیا میں جہاں بھی گئی لوگوں کا بھرپور پیار اور محبت پائی جس پررب کا جتنا شکر ادا کروں،کم ہے کہ اس نے صوفیانہ کلام گانے پر مجھے اتنی عزت بخشی کہ میں خود کو اس کے لائق نہیں سمجھتی،ایسے ایسے محبت کرنے والے لوگ ملے کہ یقین نہیں آتا کہ وہ صوفیانہ کلام سے اتنا عشق کرتے ہیں۔

دنیا: اس حوالے سے کوئی یادگار واقعہ بتانا چاہیں گی ؟

جواب : ایک واقعہ بتانا چاہوں گی جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی صوفی میوزک کے دیوانے بہت زیادہ ہیں، ڈنمارک میں ایک کنسرٹ میں پرفارم کرنا تھا اور یہ پروگرام شام سات بجے شروع ہونا تھا لیکن جب میں شام چار بجے ساؤنڈ چیک اور دیگر انتظامات دیکھنے کی غرض سے وینیو پر گئی تو یہ نظارہ دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھٹی رہ گئیں کہ گیٹ پر لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں یعنی لوگ تین چار گھنٹے پہلے ہی آکر کھڑے ہوگئے تھے جس سے ان کی دیوانگی کا اندازہ ہوتا تھا اور مقررہ وقت سے بہت پہلے ہی ہال کھچاکھچ بھر چکا تھا اور اسی مجمع کے سامنے ہم نے اپنی تیاریاں کیں جس سے لوگوں نے لطف اٹھایا اور پھر بعد میں پروگرام بھی خاصا ہٹ رہا۔

دنیا: صوفی میوزک میں کیاجادو ہے ؟ اس حوالے سے کیا خیال ہے آپ کا ؟

جواب : واقعی صوفی میوزک اپنے اندر ایک جادو رکھتا ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صوفی میوزک میں وہ جادو ہے جس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تبھی تو جدید میوزک کے پاپ سنگرز صوفی شاعری کو اہمیت دے رہے ہیں، اس کے علاوہ فلم میں بھی اس شاعری کو ترجیح دی جارہی ہے۔فلم و ٹی وی ڈراموں کے اکثر گیت صوفی میوزک کے محتاج نظر آتے ہیں۔

دنیا: میگا کنسرٹس میں لوگ خوش ہوکر آپ پر نوٹ اور دیگر قیمتی اشیاء نچھاور کرتے ہیں،یہ دیکھ کر کیسا لگتا ہے؟

جواب : لوگوں کی اپنی خوشی ہوتی ہے کہ وہ اس طرح محبت اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ چیزیں میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں کیونکہ ہم مست لوگ ہیں اور ان مادی اشیاء سے ہمارا کوئی تعلق نہیں سو ان چیزوں میں کبھی دلچسپی نہیں لی بس خوشی ہوتی ہے تو یہی کہ لوگ اپنی محبت کا اظہار اس طرح بھی کرتے ہیں۔کنسرٹس میں ساری توجہ صرف اور صرف اپنی پرفارمنس پر ہوتی ہے اور جب صوفی کلام گاتی ہوں تو اردگرد سے بے گانہ ہوکر خاص دنیا میں گم ہوجاتی ہوں، لوگ مجھ سے فرمائشیں کرتے ہیں اور اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی ہوں کہ ہر ایک کی فرمائش کو پورا کروں لیکن ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ لوگوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں میں ہوتی ہے اور اسی حساب سے فرمائشیں بھی آرہی ہوتی ہیں بہرحال صوفی میوزک کے سننے والے میرے لیے قابلِ احترام ہیں جو دیوانوں کی طرح صوفیوں سے محبت کرتے ہیں۔

دنیا: صوفی ازم کی یہ مشعل اپنے بعد کسی اور کو تھمانے کا ارادہ ہے اور کیا اس حوالے سے کسی کی تربیت ہورہی ہے تاکہ یہ میوزک آگے بھی چلتا رہے؟

جواب : ابھی تو کسی کو نہیں سکھا رہی کیونکہ سمجھتی ہوں کہ میں خود اس معاملے میں طالب علم ہوں لہٰذا جب خود کو سٹوڈنٹ سمجھتی ہوں تو پھر بھلا کسی اور کو کیا سکھا سکتی ہوں بہرحال بھار ت و پاکستان کے نوجوانو ں کے کچھ گروپس نے میرے کلام گانا شروع کردیئے ہیں جوکہ صوفی ازم میں ایک نیا باب ہے اگر وہ پوری لگن و سچائی کے ساتھ اس میوزک میں دلچسپی لیں تو اس کافیض پا سکتے ہیں۔ صوفی ازم کا مستقبل روشن دیکھتی ہوں کیونکہ نئی نسل اس جانب شدت کے ساتھ راغب ہورہی ہے۔

دنیا: آپ اپنی گائیکی سے سننے والوں کو کس قسم کے احساس سے روشناس کرانا چاہتی ہیں؟

جواب :میں اس قابل کہاں کہ انہیں کسی احساس سے روشناس کراؤں، میں تو ایک میڈیم ہوں بس کوشش یہی ہوتی ہے کہ میری گائیکی سے لوگوں کو خدا کی پہچان ہو اور انہیں پتا لگے کہ خدا اپنے بندوں سے کس قدر محبت کرتا ہے!میرا مقصد یہی ہوتا ہے کہ میری گائیکی لوگوں اورخدا کے درمیان رابطے کا کام کرے اور انہیں اپنی رُوحانیت کو پہچاننے کاموقع ملے۔

دنیا: بچپن کے حوالے سے کچھ خاص یادیں ہمارے ساتھ شیئر کیجیے؟

جواب : ایسی بہت ساری یادیں ہیں جن سے میرا بچپن بھرپور ہے، اس حوالے سے ایک خاص بات ضرور شیئر کروں گی کہ میری امی مچھلی کی سپیشل ڈش بناتی تھیں جوکہ سالن والی ہوتی تھی، اس ڈش کو بناتے ہوئے وہ اتنی محنت کرتی تھیں کہ تمام وقت چولہے کے پاس بیٹھی رہتی تھیں، ایک بار میں نے ان سے کہا کہ آپ دور ہوکر کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ جائیں، ڈش تو خودبخود پکتی رہے گی جس پر انہوں نے سخت لہجے میں کہا تھا کہ کھانا پکانے کا انحصار اسی بات پر ہے کہ آپ مسلسل کھانے پر نظر رکھیں اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی چولہے سے دور چلے گئے تو آپ کا کھانا خراب ہوسکتا ہے،ان کی یہ بات آج تک یاد ہے تاہم میں نے کھانا پکانا نہیں سیکھا کیونکہ کبھی اس کا موقع ہی نہیں ملا، بابا سائیں مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے اور وہ مجھے گھر کا کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے ،بس ہر وقت میری توجہ گانے پر ہوتی تھی۔

دنیا: بابا سائیں نے میوزک میں آپ کی تربیت کی‘ کچھ ان کی گائیکی کے بارے میں بتائیے؟

جواب : وہ صوفی گائیک تھے اور صوفیوں کے مزارات پر گایا کرتے تھے، ان کی گائیکی کا اثر میری فطرت پر بہت گہرا پڑا اور مجھ میں تمام رنگ انہی سے ملے ہیں، وہ اکثر مجھے اپنے ساتھ درگاہوں پر لے جاتے تھے اور انہی مزارات سے میری گائیکی کا آغاز ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں