38

سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے التجا، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیا جائے، مریم نواز

ملتان(سماء نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے التجا، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیا جائے،فارن فنڈنگ کے ثبوت باہر آگئے تو عوام کو پتا چلا جائے گا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم کون چلا رہا ہے؟جس طرح کشمیر کو مودی کی جھولی میں پھینکا گیا،اسی طرح آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شروع ہوچکی ہے، بتایا جائے یہ مہم کون چلا رہا ہے؟ انہوں نے ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان والوں کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہوں، میں آپ بہادری کی قائل ہوگئی ہوں۔

ہمارے نہتے کارکنوں اور عوام پر ظلم کیا جارہا ہے، تو میں نے کہا کہ جلسہ ہو یا نہ ہو، میں ملتان ضرور جاؤں گی۔ جب میں ملتان پہنچی ابھی ملتان داخل نہیں ہوئی تھی کہ گلی گلی ہر محلے میں جلسے ہورہے ہیں۔

ملتان والو! شاباش تم نے آج عمران خان کو مارمار کربھگا دیا۔ میں پیپلزپارٹی کو یوم تاسیس پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میں اپنی چھوٹی بہن آصفہ بھٹو کا خیرمقدم کرتی ہوں، جب گھر پر مشکل آئے تو بیٹیاں مائیں اور بہنیں نکلتی ہیں، جب پاکستان کی 22کروڑ عوام پر مشکل آئے تو پھر پاکستان کی یہ بیٹیاں عوام کیلئے نکلتی ہیں۔

آپ سب جانتے ہو،نوازشریف پر آج پھر مشکل وقت ہے، شریف فیملی پر ایک اور قیامت ٹوٹی ہے، نوازشریف اور شہبازشریف کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ لیکن نوازشریف نے ٹیلی فون پر کہا کہ اپنے دکھوں کو گھر پر چھوڑ کرجانا، ہمارا دکھ چھوٹا، عوام کے دکھ بڑے ہیں۔نوازشریف نے مجھے کہا کہ ملتان کے عوام کے پاس جاکر اپنے دکھوں کا ذکر مت کرنا، کیونکہ تکلیف میں ہم ہیں اس سے زیادہ عوام تکلیف میں ہیں۔

عوام پر روز دکھوں اور غموں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، ہم جانتے ہیں، کاروبار کو تالا لگ گیا، روٹی 30کی ، چولہے ٹھنڈے ہونے اور ادویات ، بجلی گیس کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہوجانے کا غم ہے۔ دوباتیں کروں گی ،اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں،ان کا میرے غموں سے کوئی تعلق نہیں، کہتے ہیں دشمن بھی ظرف والا ہونا چاہیے، لیکن ہمیں دشمن بھی کم ظرف ملا، میری دادی کا انتقال ہوا تو میں پشاور جلسے میں تھی، لیکن مجھے اڑھائی گھنٹے گزر گئے، مجھے جان بوجھ کر اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ ان کو پتا تھا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہے، میرے بھائی اور میرے بچے مجھے پاگلوں کی طرح فون کرتے رہے، جب میری ماں بسترمرگ پر تھیں، تو یہ پی ٹی آئی والے آئی سی یو کا دروازہ توڑ کر گھس گئے اور تصاویر بنائیں۔

ایک وزیر نے کہا کہ انہوں نے اپنی ماں کی میت کو پارسل کردیا ہے۔ میں ان کو کہتی ہوں کہ نوازشریف جیسا بیٹا پورے پاکستان سے ڈھونڈ کرلاکر دکھاؤ، آخری وقت تھا تو میری دادی ان کی گود میں تھی، وہ دعائیں دیتی جان دے دی، لیکن وہ کاؤنٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے کہ وہ ماں کے پاس نہ پہنچ سکا؟ذوالفقار بھٹو پھانسی چڑھایا گیا تو ان کے خاندان کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اسی طرح بلوچستان میں اکبر بگٹی کو مارا جاتا ہے اس کے خاندان کو بھی جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے اور ان کے قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کروادیا جاتا ہے۔

میں گواہ ہوں جب جلاوطنی میں میرے دادا کا نتقال ہوا، میرے والد کو جنازہ پڑھنے اور لحد میں اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ ذاتی دکھوں کی بات نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ہمیشہ منتخب نمائندوں سے کیوں کیا جاتا ہے۔کیا مشرف کو کوئی ایک دن بھی جیل میں رکھ سکا ہے؟اس جیل ہی نہیں ہوئی بلکہ راتوں رات لندن پہنچا دیا گیا۔ کسی عدالت میں جرات نہیں کہ مشرف کو کھینچ کر پاکستان واپس لائے۔

میرا سوال ہے کہ منتخب نمائندوں سے کیوں ایسا سلوک کیاجاتا ہے؟ یوسف رضاگیلانی، قاسم ، موسیٰ ، حیدرگیلانی کا کیاقصور تھا؟ ان کو تالا اور دروازہ توڑنے کا کیس بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا مظلوم ہے کہ کورونا کے پیچھے چھپ رہا ہے، کورونا نہیں ہے، یہ حکومت جانے کا رونا ہے، یہ کتنا سمجھدار کوروناہے، کہ اگر حکومتی جلسہ ہو تا باہر سے چلا جاتا ہے اگر اپوزیشن کا جلسہ ہو تو اندر چلا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کے کورونا نہیں آتا، حکومتی وزراء کے جلسے میں کورونا نہیں آتا، پہلے وہ 300افراد کو گنتا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن اپوزیشن کے اوپر لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش ہورہی ہے، لیکن ملتان کا جم غفیر دیکھ کر مجھے پتا چل گیا پاکستان کی عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کرنے والی ہے۔کوویڈ 19سے پہلے کوویڈ 18کو گھر بھیجنا بہت ضروری ہے۔ کوویڈ 18جائے گا تو کوویڈ 19بھی چلا جائے گا۔

مہنگائی، لاقانونیت، نااہلی اور نالائقی کے وائرس کا علاج بہت ضروری ہے، کوروناوائرس کے پیچھے چھپنے والوجواب دو، عوام کے روزگار، ملکی معیشت، نظام عدل ، گندم کی چوری، چینی کی چوری، مہنگائی کو کونسا وائرس لگا ہے؟ملتان کے عوام اس وائرس کا نام جانتے ہیں۔اس وائرس کا نام عمران خان ہے۔عمران خان کو وزیراعظم کی حیثیت سے نہیں کوویڈ 18کے نام سے یاد کریں گے۔

جنوبی پنجاب بنانے کا وعدہ بھی جھوٹا تھا، میڈیا نے بہت چلایا کہ عمران خان بندہ ایماندار ہے،علیمہ باجی نے سلائی مشینوں سے اربوں روپے کمائے، فارن فنڈنگ کیس 6سال سے مفرور ہے، اسٹیٹ بینک نے23خفیہ اکاؤنٹس پکڑ لیے، بشیرمیمن، ساجد باجوہ نے گواہی دی، آٹا، چینی چوری کی، مالم جبہ اسکینڈل آگیا، بلین ٹری سونامی میں اربوں کی کرپشن لیکن بندہ پھر بھی ایماندار ہے۔

کہتا میں کاروبار نہیں کرتا، بھئی کاروبارعزت سے کمانے والے کرتے ہیں، جب ساری زندگی دوسروں کی جیبوں پر گزارا کیا ہو، پھر کاروبار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر کہتا عمران خان کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کا پیزا اسکینڈل سنا ہے؟پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا، آج جب اقتدار کی کشتی ڈوبتی نظر آئی تو قدموں میں این آراولینے جابیٹھا، ان کے بڑے بھائی کو کہتا مجھے بھی پرویزالٰہی سمجھو،یہ این آراو بھی دیتے ہیں اور کھانے بھی دیتے ہیں۔

جو افسر کہتا آپ غلط کررہے ان کو اٹھاکر باہر کردیتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جس طرح کشمیر کو مودی کی جھولی میں پھینک کرآگیا، اسی طرح آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شروع ہوچکی ہے، ملتان کی عوام یہ پوچھتی ہے کہ پاکستان میں اچانک اسرائیل کی حمایت کی تحریک کیسے چلنا شروع ہوگئی؟ یہ مہم کون چلا رہا ہے؟ عوام پوچھتے ہیں کہ کیا اسرائیل کی مہم کے پیچھے بھی سلیکٹڈ اور سلیکٹرز ایک پیج پر ہیں یا نہیں، کشمیر میں الیکشن آرہا ہے ، جس نے غداری کے پرچے کٹوائے، ویسے تو یہ کشمیر کے الیکشن کا چلے گا نہیں، اگر ووٹ مانگنے جائے گا تو وہاں کے عوام غداری کے پرچوں سے استقبال کرے گا۔

سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ 6سال سے فارن فنڈنگ کیس پر سانپ بن کر کیوں بیٹھا ہے؟فارن فنڈنگ کا کیس کیوں یہ روک کربیٹھا ہوا، فارن فنڈنگ کیس کے بہت بڑے بڑے ثبوت ہیں، اگر وہ باہر آگئے تو عوام کو پتا چلا جائے گا کہ کیوں یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، عوام آج اس جج کو ڈھونڈ رہے ہیں، جس نے اس کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا تھا، ہم جانتے ہیں وہ فکس میچ تھا، جس طرح صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دینے والے کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، اسی طرح سلیکٹرز کو بھی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، سلیکٹرز کی بھی داددینی پڑتی ہے کہ چن کر نااہل ترین شخص کو ہمارے سروں پر مسلط کردیا، جس نوازشریف کو نااہل قرار دیا ، اس کے دور میں روٹی2روپے، آج 30روپے کی ہے۔

نوازشریف کے دور میں 50روپے کلو چینی اب 120روپے کی چینی ہے۔ 30روپے کلو آٹا، آج 90روپے میں آٹا نہیں مل رہا۔ آج غریب بھوکے پیٹ سوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں