34

وباء کیخلاف ویکسین نے افادیت ثابت کردی

نیو یارک: (سماء نیوز) کورونا کے خلاف بڑی کامیابی مل گئی، مشترکہ طور پر ویکسین بنانے والی امریکی اور جرمن کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی ویکسین تیسرے تجرباتی مرحلے میں 90 فیصد موثر ثابت ہوگئی۔ صدر ٹرمپ نے ویکسین کو تیاری کا کریڈٹ خود کو دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق مہلک وائرس کی شکست کے دن قریب آگئے، کووڈ 19 کے خلاف بننے والی ویکسین نے اپنی افادیت ثابت کردی۔

کورونا کے علاج کے لیے ویکسین بنانے والی امریکی اور جرمن کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی بنائی گئی ویکسین تیسرے تجرباتی مرحلے میں نوے فیصد موثر ثابت ہوئی ہے۔

ان نتائج کی بنیاد اس آزمائشی مرحلے پر ہے جس میں امریکا اور دیگر 5 ممالک میں 44 ہزار کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا اور 94 رضاکار جو پلیسبو اور ویکسین حاصل کرنے والے 2 گروپس پر مشتمل تھے۔

کمپنی کی جانب سے ان کیسز کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ یہ اندیشہ ضرور ظاہر کیا گیا ہے کہ ابتدائی حفاظتی شرح میں تحقیق کے اختتام تک تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم 90 فیصد سے زیادہ افادیت سے عندیہ ملتا ہے کہ 94 میں سے ویکسین لینے والے بمشکل 8 افراد ہی کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہوں گے۔

یہ ویکسین 21 دن میں دو ڈوز کی شکل میں فراہم کی جاتی ہے جبکہ امریکا کے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کسی کرونا وائرس کی منظوری کے لیے اس کے موثر ہونے کی شرح 50 فیصد سے کچھ زیادہ رکھی ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے کسی کرونا وائرس ویکسین کے بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹرائل کا کامیاب ڈیٹا جاری کیا گیا ہے۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ امریکی انتظامیہ سے ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری کے لیے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

فائزر کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو البرٹ بورلا کے مطابق آج کا دن سائنس اور انسانیت کے لیے بہترین ہے، ہم اس وقت ویکسین کی تیاری کے اہم ترین سنگ میل تک پہنچے ہیں جب دنیا کو اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، کیونکہ کیسز کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہورہی ہے۔

فائزر اور بائیو این ٹیک نے امریکی حکومت کو 10 کروڑ ویکسین ڈوز فراہم کرنے کے لیے 1.9 ارب ڈالرز کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور جاپان سے بھی اس طرح کے معاہدے کیے گئے ہیں۔

وقت بچانے کے لیے کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کی پروڈکشن اس کے محفوظ ہونے کے علم سے پہلے شروع کی گئی، اب انہیں توقع ہے کہ رواں سال ہی 5 کروڑ ڈوز تیار کرلیے جائیں گے، یعنی ڈھائی کروڑ افراد کو اس وبائی مرض سے تحفظ مل سکے گا۔

اس ابتدائی ڈیٹا کو ابھی کسی معتبر طبی جریدے میں شائع نہیں کیا گیا اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مکمل ٹرائل کے بعد ہی نتائج کو کسی طبی جریدے کے لیے جاری کیا جائے گا۔ دنیا بھر میں متعدد کمپنیوں کی جانب سے کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے۔

امریکی کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیاری پوری انسانیت کے لیے بڑا دن ہے، ان کا کہنا تھا کہ بیماری سے بچنے کے لیے دو بار ویکسین کا استعمال کافی ہوگا، ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے ان کی کمپنی زیادہ سے زیادہ ویکسین کی تیاری پر توجہ دے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویکسین کی تیاری کا کریڈٹ لیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ بہت جلد ویکسین آرہی ہے جو نوے فیصد کامیاب ہے۔ ویکسین کی تیاری کی خبر سٹاک مارکیٹس کے لیے بھی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی، یورپی سٹاک مارکیٹ آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں