32

فنکار برادری کا احتجاج، فرانسیسی صدر سے معافی مانگنے کا مطالبہ

لاہور: (ویب ڈیسک) فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف فنکار برادری نے فرانسیسی صدر میکرون پر تنقیدی نشتر چلا دیئے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم بھی چل رہی ہے۔ پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جب کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

اب اس معاملے پر حمزہ علی عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اختلاف اور تنقید کرنا آپ کا حق ہے لیکن جان بوجھ کر تضحیک کرنا اور اشتعال دلانے کے ارادے سے کسی کا مذاق بنانا آپ کا حق نہیں ہے، یہ غیر اخلاقی اور غیر مہذب ہے، ہم مسلمان قتل، جنگ اور دشمنی سے نہیں بلکہ صرف امن اور مذاکرات کے طریقے سے دنیا کو یہ سمجھا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اگر مسلمان، رام کے بت پر گائے کا گوشت پھینکنے کا مقابلہ منعقد کروائیں تو کیا ہوگا؟ یا کوئی یہودیوں کے عبادت خانوں میں خنزیز کاٹ سکتا ہے یا کوئی مسیحیوں کے مقدس نشان (صلیب) پر تھوک سکتاہے؟۔

انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے، اسی طرح ڈیڑھ ارب مسلمان جن نبی اکرم ﷺ کو مانتے ہیں ان کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔

دوسری طرف اداکار یاسر حسین نے لکھا کہ اداکار یاسر حسین نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں گستاخانہ خاکوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرانس اپنے صدر کی توہین برداشت نہیں کررہا تو ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین کیسے برداشت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں