33

اپنے ملازمین کو مستقل طور پر گھر سے کام کرنے کی اجازت دیدی

کلیفورنیا: (ویب ڈیسک) امریکا کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے تمام ملازمین کو مستقل طور پر گھر سے کام کرنے کا اختیار دیدیا ہے۔ تاہم یہ آپشن مینجر کی اجازت سے مشروط ہوگی۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے یہ اقدام بزنس میں اپنی حریف کمپنیوں فیس بک اور ٹویٹر کی دیکھا دیکھی اٹھایا گیا ہے۔ ان دونوں کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو مستقل طور پر گھر سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے یہ فیصلہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے دنوں میں سب سے پہلے دیکھنے میں آیا تھا۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے کچھ قواعد وضوابط پر اسی طرح سے عمل کیا جاتا رہے گا۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کچھ سٹاف کی دفاتر میں ضرورت بہرحال پھر بھی رہے گی لیکن ملازمین کی بڑی تعداد گھر سے کام کر سکیں گے، اس کیلئے انھیں اپنے مینجرز کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ سے قبل ٹویٹر کے سربراہ جیک ڈروسی نے رواں سال مئی می ہی اپنے ملاقامین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے انھیں ایک ہزار ڈالر کا الاؤنس دینے کا اعلان کیا تھا۔

جیک ڈورسی نے اپنے ملازمین سے کہا تھا کہ انہیں دفتر آنے کی کوئی ضرورت نہیں، کورونا وائرس کی وجہ سے ان کی کمپنی نے ورک فرام ہوم کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا تھا کہ اگر ان کی کمپنی کے ملازمین چاہیں تو وہ گھروں سے مستقل کام کر سکتے ہیں۔ مارک زکر برگ کا کہنا تھا کہ اگلے 5 سے 10 سالوں کے دوران فیس بک کے 50 فیصد ملازمین گھروں میں رہ کر ہی کام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں